Skip to main content

 

اردو میں درخواست دینا ہمارا قانونی حق ہے

اردو صرف زبان نہیں، روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے

اتر پردیش کے تمام اردو جاننے والے دوستوں سے ایک اپیل

کیا آپ جانتے ہیں کہ اتر پردیش میں اردو کو دوسرے سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اور حکومتِ اتر پردیش کی 7 اکتوبر 1989 کی نوٹیفکیشن نمبر 4171/XXI-89-1-1980 میں واضح طور پر اردو میں درخواستوں اور عرضیوں کو وصول کرنے اور ان کا جواب اردو میں دینے کا انتظام کیا گیا ہے؟

لہٰذا آئیے صرف اردو کی بات نہ کریں، بلکہ اردو کو سرکاری امور میں استعمال بھی کریں۔

تھانے میں درخواست ہو،
تحصیل میں عرضی ہو،
ضلع انتظامیہ کو درخواست ہو،
کسی سرکاری دفتر میں شکایت یا عرضداشت ہو

جہاں مناسب ہو، اردو میں درخواست دیں اور اس کی رسید/ڈائری نمبر ضرور لیں۔

اگر کوئی سرکاری دفتر صرف اس وجہ سے اردو کی درخواست لینے سے انکار کرے کہ وہ اردو میں لکھی ہوئی ہے، تو 7 اکتوبر 1989 کی مذکورہ نوٹیفکیشن اور دفعہ 3، U.P. Official Language Act, 1951 کی طرف توجہ دلائیں اور ضرورت پڑنے پر تحریری طور پر انکار کی وجہ مانگیں۔

آئیے ایک پُرامن اور قانونی مہم شروع کریں:

"اردو میں درخواست دیں — اردو کو سرکاری کام کا حصہ بنائیں!"

اپنی اگلی سرکاری درخواست، جہاں قانونی طور پر قابلِ اطلاق ہو، اردو میں لکھیں۔

اپنے دوستوں، طلبہ، اساتذہ، وکلاء اور تمام اردو داں افراد تک یہ پیغام پہنچائیں۔

اردو صرف ہماری زبان نہیں، ہماری آئینی و قانونی شناخت کا بھی حصہ ہے۔

 

 

اتر پردیش کے اردو داں عوام کے نام ایک اہم اپیل

تحریر: اردو کے سرکاری استعمال کے فروغ کے لیے ایک عوامی اپیل

اردو ہماری تہذیب، ادب اور جذبات کی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ سرکاری اور عملی زندگی میں استعمال ہونے والی ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ زبان بھی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی اس قانونی حیثیت کو عملی زندگی میں استعمال کیا ہے؟

اکثر ہم اردو کے تحفظ، فروغ اور ترقی کی بات کرتے ہیں، لیکن صرف تقریریں اور مشاعرے اردو کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔ اگر اردو کو حقیقی معنوں میں زندہ، فعال اور آنے والی نسلوں کے لیے مفید بنانا ہے تو اسے تعلیم، سرکاری کام، ٹیکنالوجی اور روزگار سے جوڑنا ہوگا۔

اتر پردیش میں اس سلسلے میں ہمارے پاس ایک اہم قانونی بنیاد پہلے سے موجود ہے۔

قانونی حق کیا ہے؟

اتر پردیش حکومت کی  7 اکتوبر 1989 کی نوٹیفکیشن نمبر 4171/XXI-89-1-1980 کے تحت اردو کو مخصوص مقاصد کے لیے دوسری سرکاری زبان کے طور پر استعمال کرنے کا انتظام کیا گیا۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ:

“entertaining petitions and applications in Urdu and replies thereof in Urdu”

یعنی اردو میں درخواستوں اور عرضیوں کو وصول کرنا اور ان کے جوابات اردو میں دینا اس نوٹیفکیشن میں واضح طور پر شامل ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ آف انڈیا نے 4 ستمبر 2014 کو U.P. Hindi Sahitya Sammelan v. State of U.P., Civil Appeal No. 459 of 1997 میں اس قانونی انتظام کی آئینی حیثیت کو برقرار رکھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ریاست مخصوص مقاصد کے لیے ایک سے زیادہ سرکاری زبانیں اختیار کر سکتی ہے۔

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اردو کو اتر پردیش میں ہر سرکاری کام کے لیے بلاشرط دوسری سرکاری زبان قرار نہیں دیا گیا؛ 1989 کی نوٹیفکیشن میں مخصوص سات مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں اردو میں درخواستیں اور عرضیاں وصول کرنا بھی شامل ہے۔

اب وقت صرف بات کرنے کا نہیں، عمل کرنے کا ہے

ہم اردو کے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن اگر ہماری اپنی درخواستیں، شکایات، عرضیاں اور سرکاری مراسلات ہمیشہ دوسری زبان میں ہوں تو سرکاری نظام میں اردو کا عملی استعمال کیسے بڑھے گا؟

اس لیے ایک پُرامن، قانونی اور مثبت عوامی مہم شروع کی جا سکتی ہے:

جہاں قانونی طور پر قابلِ اطلاق ہو، اردو میں درخواست دیں۔

تھانے میں درخواست ہو، تحصیل میں عرضی ہو، ضلع انتظامیہ سے متعلق معاملہ ہو یا کسی ایسے سرکاری دفتر میں درخواست ہو جہاں یہ قانونی حق لاگو ہوتا ہواردو میں درخواست دینے کی روایت شروع کریں۔

درخواست جمع کرتے وقت رسید یا ڈائری نمبر ضرور لیں۔

اگر کوئی متعلقہ دفتر صرف زبان اردو ہونے کی وجہ سے درخواست وصول کرنے سے انکار کرے تو مؤدبانہ انداز میں U.P. Official Language Act, 1951 کی Section 3 اور 7 اکتوبر 1989 کی نوٹیفکیشن کی طرف توجہ دلائیں اور ضرورت پڑنے پر تحریری طور پر انکار کی وجہ طلب کریں۔

یہ کسی دوسری زبان کے خلاف مہم نہیں ہے۔

یہ اردو کے جائز اور قانونی استعمال کے حق میں ایک پُرامن مہم ہے۔


اردو اور روزگار — اصل سوال یہی ہے

ہمیں ایک اور اہم حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔

کسی زبان کی ترقی اس وقت زیادہ مضبوط ہوتی ہے جب وہ صرف گھر، مدرسے، اسکول، کتاب اور مشاعرے تک محدود نہ رہے بلکہ روزگار اور معاشی سرگرمیوں سے بھی جڑ جائے۔

اگر سرکاری اداروں میں اردو کا عملی استعمال بڑھے گا تو اس کے ساتھ کئی قسم کی مہارتوں کی ضرورت بھی پیدا ہو سکتی ہے، مثلاً:

  1. اردو ٹائپنگ
  2. اردو کمپیوٹر آپریٹر
  3. اردو ڈیٹا انٹری
  4. اردو مترجم
  5. اردو پروف ریڈر
  6. اردو ڈرافٹنگ
  7. سرکاری دستاویزات کی اردو تیاری
  8. اردو سے ہندی/انگریزی ترجمہ
  9. ہندی/انگریزی سے اردو ترجمہ
  10. اردو DTP اور ڈیزائننگ
  11. اردو ڈیجیٹل کنٹینٹ
  12. اردو ویب سائٹ اور سوشل میڈیا مینجمنٹ
  13. اردو قانونی ڈرافٹنگ
  14. اردو دستاویزات کی ڈیجیٹلائزیشن
  15. اردو میں AI اور ٹیکنالوجی سے متعلق خدمات

یعنی اردو کو روزگار سے جوڑنے کا راستہ اس کے عملی استعمال سے نکلتا ہے۔

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف اردو میں درخواست دینے سے فوراً ملازمتیں پیدا ہو جائیں گی۔ لیکن اگر معاشرے میں اردو کا سرکاری، تعلیمی، قانونی اور ڈیجیٹل استعمال مسلسل بڑھے تو اس سے اردو جاننے والے افراد کے لیے نئی مہارتوں اور خدمات کی مانگ پیدا ہونے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

اسی لیے ہمیں اردو جاننے والی نئی نسل کو صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ:

اردو پڑھو، اردو سے محبت کرو۔

بلکہ یہ بھی کہنا چاہیے:

اردو سیکھو، کمپیوٹر سیکھو، ٹائپنگ سیکھو، ترجمہ سیکھو، قانونی ڈرافٹنگ سیکھو، ڈیجیٹل مہارت حاصل کرو اور اردو کو اپنی روزی روٹی سے جوڑو۔


ایک نئی سوچ کی ضرورت ہے

ہمیں اردو کو صرف ماضی کی یادگار بنانے کے بجائے مستقبل کی مہارت بنانا ہوگا۔

ایک نوجوان اگر اردو جانتا ہے اور ساتھ میں:

Urdu + Computer + Typing + Translation + Legal Drafting + Digital Skills

سیکھ لیتا ہے تو اس کے پاس صرف زبان کا علم نہیں بلکہ ایک عملی skill-set ہوگا۔

اسی طرح اردو کے اساتذہ، مترجمین، وکلاء، صحافی، طلبہ، کمپیوٹر آپریٹرز، DTP ماہرین اور ڈیجیٹل کریئیٹرز مل کر اردو کے لیے ایک نیا معاشی میدان تیار کر سکتے ہیں۔


آئیے ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں

ہم پورے اتر پردیش کے اردو داں افراد سے اپیل کرتے ہیں:

اپنی اگلی مناسب سرکاری درخواست اردو میں لکھیں۔

دوسروں کو بھی بتائیں کہ اردو میں درخواست دینا محض جذباتی فیصلہ نہیں بلکہ اتر پردیش میں مخصوص سرکاری مقاصد کے لیے ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ استعمال ہے۔ 1989 کی نوٹیفکیشن اور 2014 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پڑھیں، سمجھیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔

یہ مہم کسی زبان کو کمزور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اردو کے عملی استعمال کو مضبوط کرنے کے لیے ہونی چاہیے۔

ہمارا نعرہ ہو:

اردو پڑھیں — اردو لکھیں — اردو میں درخواست دیں — اردو کو روزگار سے جوڑیں۔

اور سب سے بڑھ کر:

اردو کے حق کی بات صرف سوشل میڈیا پر نہ کریں؛ اسے اپنی روزمرہ عملی زندگی میں استعمال کریں۔

اگر ہم لاکھوں اردو داں لوگ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اردو کو سرکاری، تعلیمی، قانونی اور ڈیجیٹل میدان میں استعمال کرنا شروع کریں، تو اردو صرف ہماری یادوں اور جذبات کی زبان نہیں رہے گی بلکہ عمل، ہنر اور روزگار کی زبان بھی بن سکتی ہے۔

آئیے اردو کو صرف محفوظ نہ کریں—اردو کو استعمال کریں، آگے بڑھائیں اور آنے والی نسل کے لیے اسے معاشی طور پر مفید زبان بنائیں۔

 

حسیب احمد، ایڈووکیٹ

Comments

Popular posts from this blog

BOOKS for Civil Services Exams(Pre) - CSAT

As the Preliminary examination from 2011 will focus more on mental ability, logical reasoning, and data interpretation it’s important to have the right books for CSAT in advance. Those r here Note: All the books mentioned on this page are highly recommended by fellow aspirants. I strongly recommend you get hold of previous years solved SECTION-WISE question papers and the Civil Services Exam Syllabus. This will ensure you get off to a flying start in the IAS preparation. Books for Paper 1 of Prelims General Studies Manual (GS Manual) When starting out with prelims preparation it is a must to have a GS manual with you. What is a GS manual? Well it is a all-in-one book for civil services prelims covering all the topics like History, Geography, Polity, Economy, Current Affairs, General Knowledge, Mental Ability, Facts, and more. It is very useful for finding all information at one place. Also many times the standard books do not contain information, especially the latest ones. ...

Free Coaching at JMI

The Centre for Coaching and Career Planning of Jamia Millia Islamia runs free coaching programmes for aspirants belonging to SCs, STs, OBCs and Minority communities who wish to prepare themselves for competitive exams either for jobs or higher studies. This year, the success rate of selection of candidates preparing at the Centre has improved from the previous years. According to official figures provided by Jamia, five students associated with the centre have qualified for personality test in IAS, scheduled to be held in March/April 2011. Two students have qualified (Prelims) for Rajasthan PCS and two in J&K PCS. Four students have cleared their NET-UGC, fifteen have been selected in different engineering colleges and 20 in B.Ed. and E.T.E. programmes. The funding for the Centre is available from the University Grants Commission and Ministry of Minority Affairs. The University Grants Commission (UGC) has sanctioned an amount of Rs.15 Crores for the establishment of Residential Coa...

MANUU offers Civil Services coaching for minority candidates

Hyderabad: The Civil Services Examination Coaching Academy of Maulana Azad National Urdu University (MANUU) has invited applications from minority candidates for Civil Services (Mains) other competitive examinations. The last date for applying is 30th June, 2011. The Civil Services Examination Coaching Academy of MANUU has been established by Union Ministry of HRD to provide coaching for civil services and other Services for students from Minority groups. The MANUU-CSE Academy has announced the start of the coaching classes for Civil Services (Mains) and Other Services (Indian Railways, Indian Forest Service, NDS, Judicial Services, etc. The Academy will conduct classes for 4 months to cover the syllabus of Mains Examination. Parallel coaching will be provided for other competitive exams. Girls and Boys from Minority groups who have already appeared in the Civil Services 2011 Prelims in June are eligible to apply for Mains coaching. For coaching for other services, any qualified Minor...